اسلام آباد کی تاریخ کے پہلے بلدیاتی انتخابات

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے
بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد کی50 یونین کونسلوں میں ووٹ ڈالنے کا عمل صبح سات سے شام ساڑھے پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔
سندھ میں پی پی پی اور پنجاب میں ن لیگ آگے
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی برتری
پی ٹی وی نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ دارالحکومت میں ووٹرز کی کل تعداد چھ لاکھ 76 ہزار 795 ہے۔
یہ ووٹر 650 نشستوں کے لیے میدان میں اترنے والے 2396 امیدواروں میں سے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ووٹرز، امیدوار، پولنگ سٹیشنز
ووٹرز کی کل تعداد چھ لاکھ 76 ہزار 795 ہے۔
650 نشستوں کے لیے میدان میں 2396 امیدوار موجود ہیں۔
آزاد امیدواروں کی تعداد 972 ہے۔
پولنگ سٹیشنز کی کل تعداد 640 ہے۔
62 حساس عمارتوں میں موجود پولنگ سٹیشنز پر پولیس تعینات ہے۔

ان انتخابات میں ملک کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزبِ

 اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے بیشتر نشستوں پر یا امیدوار کھڑے کیے ہیں یا وہاں دیگر جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔
جماعتی بنیادوں پر ہونے والے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا ہے جبکہ ووٹرز کی سہولت کے لیے ویب سائٹ پر آن لائن معلومات بھی دی جا رہی ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ ووٹر شناختی کارڈ ہمراہ لائے تاہم شناختی کارڈ زائد المعیاد ہونے کی صورت میں بھی وہ ووٹ ڈال سکے گا۔
بلدیاتی الیکشن کے موقع پر جہاں دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں تعطیل ہے وہیں سرکاری دفاتر کے ملازمین کو دن دو بجے چھٹی دے دی جائےگی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوران سکیورٹی کی فراہمی کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے فوج، رینجرز اور ایف سی کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس کے ہمراہ رینجرز کے 700 اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ امن وامان برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے ایف سی کے 1000 اہلکار بھی علاقے میں موجود ہیں۔
حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں پر ایک رینجر اور 15 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ہر حساس پولنگ سٹیشن پر سات پولیس اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق فوج بھی سریع الحرکت فورس کے طور پر الرٹ رہے گی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s